روندو جسے بلتی زبان میں رونگیول بھی کہا جاتا ہے روندو پاکستان کے زیر انتظام ایک ضلع بلتستان کا پہاڑی علاقہ ہے سکردو بلتستان میں سکردو،خپلو،گھرمنگ اور شگر کے بعد یہ بلتستان کی دوسری سب سے بڑی وادی ہے اور یہ وادی بلتستان کے مغرب میں واقع ایک نہایت ہی خبصورت اور حسین وادی ہے۔روندو کو سن2019 میں ضلع بنایا گیا تھا۔وادی روندو کی آبادی بنیادی طور پر شین ہےجو شینا زبان بولتے ہیں لیکن یہاں بلتی بولنے والوں کی ایک قابل زکر تعداد ہے۔وادی روندو سکردو سے 65۔70 کو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔وادی روندو کا صدر مقام ڈمبوداس ہے۔وادی روندو کی 100فیصد آبادی شیعہ مسلک سے
تعلق رکھتی ہے۔اگرچہ ڈمبوداس کی آبادی طورمک،باغیچہ اور تھوار وادی سے زیادہ نہیں ہے۔لیکن یہ روندو وادی کے وسط میں بیٹھتی ہےلہذا یہ فلحال روندو وادی کا دالحکومت ہے۔شرح خواندگی میں شرح خواندگی90 فیصدہے۔تقریبا 70 فیصد رہائشی شینا بولتے ہیں اور 30 فیصد کے قریب لوگ بلتی بولتے ہیں۔روندو گلگت بلتستان کے ایک نہایت ہی خوبصورت اضلاع میں سے ایک ہے بلکہ یہ کہا جائے یہ بلتستان کا دروازہ ہے۔موسم گرما میں دیکھنے کے لئے پرکشش مقامات ہیں جن میں وادی بلامیک،استک نالا، تالو
،یولبوہے جن میں سے سب سے خوبصورت وادی ،وادی بلامیک ہے۔ وادی بلامیک کی طرف جانے کے لیے اپکو ڈامبوداس سے سپیشل گاڑی کرنا پڑتی ہے جو کی وادی بلامیک کی سروس کی گاڑی ہوتی ہے یعنی ٹیوٹا 4بائی4 کیونکہ وادی بلامیک کی طرف جانے کے لئے اپکو ڈھلوانوں اورپہاڑی راستوں سے ہوکر گزرنا پڑتا ہے۔کیونکہ وادی بلامیک ڈمبوادس سے 3 گھنٹے کے فاصلے پراور دریائے سندھ کے اس پار قدر بلندی پرقدرے بلندی پر واقع ہے جب آپ ٹیوٹا 4 بائی4 پر سفر کرتے ہیں تو آپکو وادی بلامیک جاتے ہوئے آپ قدرت کے حسین نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں ٹیوٹا گاڑی کی چھتی کھولی ہوئی ہوتی ہے اور
آسسانی سے باہر کے نظاروں کو دیکھ سکتے ہیں جب آپ 3 گھنٹے کے مسلسل سفر کے بعد وادی بلامیک پہنچتے ہیں اور حسین نطاروں بہتے چشموں،آبشاروں اور سرسبزو شاداب کھیت کھلیانوں کو دیکھتے ہیں تو آپکی ساری تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے۔وادی بلامیک کے لوگ نہایت سادہ اور مہمان نواز ہوتے ہیں۔وادی بلامیک میں زیادہ تر لوگ آلوکی کاشت کرتے ہیں۔وادی بلامیک کے آلو نہایت مشہور ہیں اور یہ آلو وادی بلامیک سے لاہور،کراچی اور پاکستان کے دیگربڑے شہروں میں جاتے ہیں۔
وادی بلامیک کا زیادہ تر حصہ جنگلات پر مشتمل ہے اور یہاں ہر قسم کے جنگلی جانور بھی رہتے ہیں جن مین جنگلی لومڑی،کتا،کبوتر،ہرن،مارخور،بیھٹر،بکری گائے زو اور ےاک جسے جانور بھی پائے جاتے ہیں۔اور یہ جانور وادی کی حسن کو اور بھی پر کشش بناتی ہے
ان سب خوبیوں کے باوجوداس پورے علاقے میں تعیم حاصل کرنے کے لیے صرف ایک بوائز سکول ہے جس میں صرف 8 کلاس تک تعلیم حاصل کر سکتے ہیں اور صرف ایک 4 کمروں پر مشتمل ڈسپنسری ہے جس میں ڈاکٹراور لیڈی ہلتھ ورکر بھی نہیں جس کی وجہ سے کافی لوگ بے موت مارے جاتے ہیں۔





Comments
Post a Comment